کاروار، 6؍ نومبر (ایس او نیوز) ضلع ایس پی کی خدمات انجام دینے والی ایک فرض شناس پولیس افسر سومن پینیکر کا تبادلہ کروانے میں سیاسی لیڈروں کا ہاتھ ہونے کی بات کھل کر سامنے آئی تھی ، لیکن اب سننے میں آرہا ہے کہ خود بی جے پی اراکین اسمبلی کے بیچ آپس میں ٹھن گئی ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ سومن پینیکر نے مٹکہ ، جوئے بازی ، غیر قانونی شراب اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں پر روکنے لگانے کی کوشش کی تھی ، اس سے مختلف غیر سماجی سرگرمیوں میں ملوث لابی بہت پریشان ہوگئی تھی اور ایس پی کو ہٹانے کے لئے سیاست دانوں پر دباو بنانا شروع کیا تھا ۔ چونکہ انتخابات کے دوران سیاست دانوں کے لئے اس قسم کی لابی اور مافیا کا سہارا ضروری ہوتا ہے اس لئے انہوں نے وزیر اعلیٰ پر دباو بنانا شروع کیا ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق لیبر منسٹر شیورام ہیبار نے واضح طور پر جب اُترکنڑا سے سومن پینیکرکو ہٹانے کی بات کہی تو کاروار ایم ایل اے روپالی نائک نے اس کی مخالفت کی تو وزیر اعلیٰ کے ساتھ اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ ایس پی کا تبادلہ نہ کیا جائے ۔ اس پر دیگر بی جے پی اراکین اسمبلی ناراض ہوگئے اور انہوں نے روپالی نائک سے اختلاف کرتے ہوئے ایس پی کو ہٹانے کی مہم تیز کر دی اور اسے انجام تک پہنچا کر ہی دم لیا ۔ اس طرح خود ضلع بی جے پی کے اندر یہ ایک متنازع مسئلہ بن گیا ۔
دوسری طرف سمجھا جا رہا تھا کہ تبادلہ کے بعد کانگریس اور جے ڈی ایس وغیرہ کی طرف سے اس تبادلہ پر سوال اٹھائے جائیں گے اور بی جے پی کے خلاف محاذ بن جائے گا ، لیکن سومن پینیکر کے تبادلہ پر حزب مخالف کی ان دو اہم پارٹیوں کی طرف سے بالکل خاموشی اختیار کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ لوگ بھی ایک فرض شناس پولیس افسر کو ضلع میں ٹکنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے ، کیونکہ انتخابات کے موقع پر غیر قانونی اور غیر سماجی عناصر کی پشت پناہی ان کی اپنی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ یعنی اس سیاسی حمام میں کوئی بھی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہے ۔